Copyright 2007 Voice of Chakwal (Dhudial2day Corporation) All Rights Reserved.
ONLINE COURSES
a) Basic Netskills for staff & students
b) Netskills & E-Course Design for language teaching
c) Software for creating interactive language exercises
d) Build your own online classroom (VLEs, podcasts, audio/video-streaming)
e) Copyright, Free Image Resources & Digital Picture Editing
f) Blogs for learning
g) Market your educational website
h) Journal Articles & Research
Read More..
TESTS: IELTS.....
To return to this page from any linked site, please press the back arrow on your browser.
a) IELTS (International English Language Testing System)
b) TOEFL (Test of English as a Foreign Language) & related Tests
c) CAEL (Canadian Academic English Language Assessment)
d) Cambridge EFL Examinations (FCE, CAE etc)
e) Michigan Proficiency Tests
f) Free Practice Exercises
Find Here...
|
چھٹے صدر پاکستان
|
در منصب
16 ستمبر 1978ء – 17 اگست 1988ء |
|
|
|
|
|
|
|
|
|
|
|
|
|
|
|
رئیسِ عملۂ پاک فوج
|
در منصب
11 اکتوبر 1976ء – 17 اگست 1988ء |
| پیشرو |
ٹکہ خان |
| جانشین |
مرزا اسلم بیگ |
|
| پیدائش |
12 اگست 1924
جالندھر , پنجاب, برطانوی ہندوستان (موجودہ بھارت) |
| وفات |
17 اگست 1988 (عمر 64 سال)
بہاولپور , پنجاب, پاکستان |
| مادر علمی |
یونائیٹڈ سٹیٹس آرمی کمانڈ اینڈ جنرل سٹاف کالج |
| مذہب |
سنی اسلام |
|
فوجی خدمات |
| وفاداری |
پاکستان |
| نوکری/شاخ |
پاک فوج (PA – 1810) |
| نوکری کے سال |
1943–1988 |
| عہدہ |
منصبِ جامع |
| اکائی |
آرمڈ کور (Guides Cavalry FF) |
| اَمر |
دوسری انڈیپینڈنٹ آرمرڈ بریگیڈ, اردن
فرسٹ آرمڈ ڈویژن, ملتان
II کور (پاکستان), ملتان
رئیس عملہ پاک فوج
|
| جنگیں |
جنگ عظیم دوم
پاک بھارت جنگ 1965ء
اردن کا سیاہ ستمبر
افغانستان میں روسی جنگ |
جنرل محمد ضیاء الحق (12 اگست1924ء تا 17 اگست1988ء) پاکستان کی فوج کے سابق
سربراہ تھے جنہوں نے 1977ء میں اس وقت کے پاکستانی وزیر اعظم ذوالفقار علی بھٹو
کی حکومت کا تختہ الٹ کر مارشل لاء لگایا اور بعد ازاں ملک کی صدارت کا عہدہ
بھی سنبھال لیا۔ جہاں ضیاء الحق اپنے گیارہ سالہ آمریت کے دور کی وجہ سے مشہور
ہیں وہاں 1988ء میں ان کی پراسرار موت بھی تاریخ دانوں کیلیے ایک معمہ ہے۔ وہ
تا دم مرگ، سپاہ سالار اور صدرات، دونوں عہدوں پر فائز رہے۔
ابتدائی زندگی
سابق صدر مملکت و سابق چیف آف آرمی سٹاف۔ 1924ء میں جالندھر میں
پیدا ہوئے۔ جالندھر اور دہلی میں تعلیم حاصل کی۔ سن 1945ء میں فوج میں کمشن
ملا۔ دوسری جنگ عظیم کے دوران برما ، ملایا اور انڈونیشیا میں خدمات انجام
دیں۔آزادی کے بعد ہجرت کرکے پاکستان آگئے۔ 1964ء میں لیفٹینٹ کرنل کے عہدے پر
ترقی پائی اور سٹاف کالج کوئٹہ میں انسٹرکٹر مقرر ہوئے۔ 1960 تا 1968 ایک کیولر
رجمنٹ کی قیادت کی۔ اردن کی شاہی افواج میں خدمات انجام دیں ، مئی 1969ء میں
آرمرڈ ڈویژن کا کرنل سٹاف اور پھر بریگیڈیر بنا دیا گیا۔ 1973 میں میجر جنرل
اور اپریل 1975ء میں لیفٹنٹ جنرل کے عہدے پر ترقی دے کر کور کمانڈر بنا دیا
گیا۔ یکم مارچ 1976ء کو جنرل کے عہدے پر ترقی دے کر پاکستان آرمی کے چیف آف
سٹاف مقرر ہوئے
مارشل لاء
1977ء میں پاکستان قومی اتحاد نے انتخابات میں عام دھاندلی کا
الزام لگایا اور ذوالفقار علی بھٹو کے خلاف ایک ملک گیر احتجاج کا سلسلہ شروع
ہو گیا۔ یوں ملک میں سیاسی حالت ابتر ہو گئی۔ پیپلز پارٹی اور قومی اتحاد کے
درمیان کئی مرتبہ مزاکرات ہوئے۔ لیکن مزاکرات کی کامیابی سے پہلے ہی حالات کی
خرابی کا فائدہ اٹھاتے ہوئے جنرل ضیاء الحق نے ملک میں مارشل لاء کے نفاذ کا
اعلان کر دیا۔ انہوں نے آئین معطل نہیں کیا اور یہ اعلان کیا کہ آپریشن فیئر
پلے کا مقصد صرف ملک میں 90 دن کے اندر انتخابات کروانا ہے دوسرے فوجی حکمرانوں
کی طرح یہ نوے دن گیارہ سال پر محیط ہو گئے۔ مارشل لاء کے نفاذ کے بعد ذوالفقار
علی بھٹو نے شدید مزاحمت کی۔ جس کے نتیجہ میں ان کو گرفتار کر لیاگیا۔ ان پر
ایک قتل کا مقدمہ چلایا گیا۔ ہائیکورٹ نے ان کو سزا موت سنائی اور سپریم کورٹ
نے بھی اس کی توثیق کر دی۔ اس فیصلے پر جنرل ضیاء الحق اثر انداز ہوئے۔ اور
بھٹو کو سزائے موت دلانے میں ان کا اہم کردار رہا۔ یوں 4 اپریل 1979ء کو بھٹو
کو پھانسی دے دی گئی۔ آج بھی ان کی پھانسی کو ایک عدالتی قتل قرار دیا جاتا ہے۔
اقتدار کو دوام
یوں ایک عوامی لیڈر کی موت کے بعد مارشل لاء کو دوام حاصل ہوا۔
اس کے بعد ضیاء الحق کی یہ کوشش رہی کہ پیپلز پارٹی کو اقتدار سے دور رکھاجائے
اس مقصد کے لیے انہوں نے منصفانہ عام انتخابات سے گریز کیا۔ اور بار بار الیکشن
کے وعدے ملتوی ہوتے رہے۔ دسمبر 1984 میں اپنے حق میں ریفرنڈم کا ڈھونگ رچایا۔
انتخابات
فروری 1985ء میں غیر جماعتی انتخابات کرانے کااعلان کیا ۔ پیپلز پارٹی نے ان
انتخابات کا بائیکاٹ کیا ۔ یوں محمد خان جونیجو کے وزیر اعظم بننے کی راہ نکل
آئی۔ باہمی اعتماد کی بنیاد پر 30 دسمبر 1985ء کو مارشل لاء اٹھالیاگیا اور بے
اعتمادی کی بنیاد پر آٹھویں ترمیم کے تحت جنرل ضیاء الحق نے 29 مئی 1988 کو
جونیجو صاحب کی حکومت برطرف کر دی۔ ان پر نااہلی اور بدعنوانی کے علاوہ بڑا
الزام یہ تھا کہ اسلام نظام نافذ کرنے کے کی ان کی تمام کوششوں پر پانی پھر گیا
ہے۔
اسلام نظام
جنرل محمد ضیاء الحق نے سرقہ، ڈکیٹی ، زنا، امتناع شراب ، تہمت
زنا، اور تازیانے کی سزاؤں سے متعلق حدود آرڈینس اور زاکواۃ آرڈینس نافذ کیا۔
وفاقی شرعی عدالت قائم کی۔ اور قاضی عدالتیں قائم کیں
جہاد
سوویت روس کی افغانستان پر جارحیت کا مقصد پاکستان فتح کرکے بحیرہ عرب کے گرم
پانیوں تک رسائی حاصل کرنا تھا.جنرل محمد ضیاء الحق نے روس اور بھارت کی جانب
سے ملکی سلامتی کو لاحق خطرات کا احساس کرتے ہوئے اور افغانستان کے مسلمان
بھائیوں کی خاطر افغان مجاہدین کی مدد کرنے کا فیصلہ کیا.اور کئی سالوں کے بعد
دونوں ملکوں کو بچا لیا.بعض حلقوں کی جانب سے جنرل موصوف کو بدنام کرنے کےلیے
امریکا کو افغان جہاد کا روح رواں ٹھرایا جاتا ہے.لیکن امریکا صرف اپنی مطلب
براری کےلیے افغان جہاد میں شامل ہوا تھا.بعض لوگ یہ کہتے ہیں کہ جو ضیاء الحق
صاحب نے دہشت گردی کی فصل بوئی کیونکہ انہوں نے جو مدرسے بنوائے ان میں سے
نکلنے والے مجاہد ان کی موت کے 13 سال بعد دہشت گرد بن گئے یہ تو اسی طرح ہے کہ
ایک بادشاہ ایک پل بنائے اور اس کے مرنے کے 100 سال بعد وہ پل پرانا ہو کر گر
جائے اور کئی لوگ مر جائیں اور لوگ یہ کہیں کہ اس بادشاہ نے یہ کئی لوگوں کو
مارنے کی سازش کی تھی جس کی وجہ سے یہ پل بنایا تھا جرنل صاحب نے تو افغانستان
کی مدد کے لئے مجاہد پیدا کیے بعد میں آنے والے حالات سے ان کا کیا تعلق. بھارت
سے تعلقات پہلے جیسے ہی رہے.جنرل صاحب نے ایٹمی پروگرام پر امریکی دباؤ کو
مسترد کیا.اور بھارت میں کرکٹ میچ میں راجیو گاندھی کو بتایا کہ ہمارے پاس بھی
ایٹم بم ہے.جس پر راجیو گاندھی اور بھارت کی ساری اکڑ فوں نکل گئی.
خامیاں
اس دور میں صحافیوں کو تشدد کا نشانہ بنایا گیا ان کو کوڑے مارے
گئے جیلوں میں ڈالا گیا۔ پیپلز پارٹی کے کارکنوں کو پابند سلاسل کرکے ان کو
تشدد کا نشانہ بنایا گیا۔ غرض اس مارشل لاء نے اپنے خلاف اٹھنے والی ہر آواز کو
دبانے کے لیے ہر قسم کا حربہ استعمال کیا۔
شہادت
17 اگست 1988 کو بہاول پور کے قریب ایک ہوائی حادثے میں جنرل
صاحب ،جنرلاختر عبدالرحمان،پاکستان میں امریکی سفیر رافیل،امریکی فوجی اتاشی
بریگیڈیر واسم،آٹھ دوسرے پاکستانی جنرل،انکے سٹاف اور جہاز کے عملے سمیت 31
افراد لقمۂ اجل بن گئے۔ یوں ان کی شہادت کے بعد جناب غلام اسحاق خان نگران صدر
منتخب ہوئے۔ نومبر 1988 کے انتخابات میں بے نظیر بھٹو ملک کی پہلی خاتون وزیر
اعظم منتخب ہوئیں۔ ضیاء الحق کی شہادت کے حوالے سے تحقیقات کا آغا ز بھی ہوا
لیکن آج تک ان کی پراسرار شہادت کے متعلق کوئی حقیقت سامنے نہیں آ سکی۔ جنرل
صاحب کی شہادت کا الزام امریکا،کے جی بی،را ،خاد،موساد اور قادیانیوں پر لگایا
جاتا ہے.